محرم الحرام: صبر، استقامت اور قربانی کا سبق
محرم الحرام، اسلامی سال کا پہلا مہینہ، صرف ایک قمری تقویم کا آغاز ہی نہیں بلکہ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جو ہمیں تاریخ انسانیت کے سب سے عظیم سانحات اور کرداروں کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں صبر، استقامت، حق کے لیے قربانی اور عدل و انصاف کے اصولوں پر ڈٹے رہنے کا درس دیتا ہے۔ جب ہم محرم کا نام سنتے ہیں تو فوراً ذہن میں کربلا کا میدان، امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے باوفا ساتھیوں کی لازوال قربانی آجاتی ہے۔ یہ قربانی صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک ابدی سبق ہے جو ہر دور کے مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
کربلا کی قربانی: حق و باطل کا معرکہ
محرم الحرام کا ذکر ہو اور کربلا کا ذکر نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ 680 عیسوی میں، یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں، جب اسلامی اصولوں اور اقدار کی پامالی ہونے لگی، تو امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے حق کا علم بلند کیا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کا راستہ کانٹوں بھرا ہے، لیکن انہوں نے اسلامی اصولوں کی خاطر، اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی خاطر، اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ انکار صرف سیاسی بغاوت نہیں تھی، بلکہ یہ حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنے کا عمل تھا۔
کربلا کا میدان ایک ایسی سرزمین تھی جہاں امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے 72 ساتھیوں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ پیاسے رہے، بھوکے رہے، اور شدید ظلم و ستم کا سامنا کیا، لیکن انہوں نے اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی قربانی اتنی عظیم تھی کہ اس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔ یہ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی اور انصاف کے لیے کھڑا ہونا کتنا ضروری ہے، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو۔
صبر و استقامت: کربلا کا مرکزی سبق
محرم الحرام کا سب سے بڑا سبق ہے صبر و استقامت۔ امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے اہل بیت نے جو صبر کا مظاہرہ کیا، وہ انسانیت کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے شدید ترین مشکلات، اپنے پیاروں کی شہادت، اور اپنی جان کا خطرہ ہونے کے باوجود اللہ کی رضا پر راضی رہے۔ ان کی استقامت نے ظلم کو شکست دی اور حق کو سربلند کیا۔
آج کی دنیا میں، ہم روزانہ چھوٹی بڑی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ کبھی ذاتی زندگی میں، کبھی معاشرتی، کبھی معاشی، اور کبھی جذباتی۔ ایسے میں کربلا کی یاد ہمیں حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اگر ہم اپنے اصولوں پر قائم رہیں، حق کا ساتھ دیں، اور اللہ پر بھروسہ رکھیں تو کوئی بھی مشکل ہمیں توڑ نہیں سکتی۔ صبر صرف مصیبتوں کو برداشت کرنا نہیں، بلکہ مصیبتوں میں بھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا ہے۔ استقامت کا مطلب ہے اپنے مقصد اور اپنے ایمان پر مضبوطی سے قائم رہنا، چاہے حالات کتنے ہی نامساعد ہوں۔
قربانی کا فلسفہ: صرف جان کا نذرانہ نہیں
جب ہم کربلا کی قربانی کی بات کرتے ہیں، تو اکثر ہمارے ذہن میں صرف جان کی قربانی آتی ہے۔ لیکن اس قربانی کا فلسفہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے مفادات، اپنی خواہشات، اور یہاں تک کہ اپنی جان کو بھی حق، انصاف، اور اللہ کی رضا پر قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے اپنی اور اپنے اہل بیت کی قربانی دے کر یہ ثابت کیا کہ انسانیت کا سب سے بڑا فرض یہ ہے کہ وہ سچائی کا ساتھ دے اور ظلم کے خلاف آواز اٹھائے۔ یہ قربانی ہمیں یہ سبق بھی دیتی ہے کہ ہمیں اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے، معاشرے کے لیے، اور دین کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ یہ قربانی ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ زندگی کی اصل کامیابی مال و دولت جمع کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
محرم الحرام میں صبر و استقامت کیسے حاصل کریں؟
محرم الحرام کا مہینہ ہمیں ان عظیم ہستیوں کی یاد دلاتا ہے، جن کی زندگی صبر و استقامت کا روشن باب ہے۔ اس مہینے میں ہم ان کی سیرت سے متاثر ہو کر اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔
- اللہ پر توکل: سب سے پہلے، اللہ رب العزت پر مکمل توکل سیکھیں۔ امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ہر مشکل میں اللہ کا نام لیا اور اسی پر بھروسہ رکھا۔ جب ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو مشکلات آسان نظر آنے لگتی ہیں۔
- قرآن و سنت پر عمل: قرآن و سنت میں صبر و استقامت کے بے شمار واقعات اور احکامات موجود ہیں۔ ان کا مطالعہ ہمیں حوصلہ دے گا۔
- حق کا ساتھ دیں: جہاں بھی غلط ہو، اس کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت پیدا کریں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہم میدان میں اتریں، بلکہ اپنے ارد گرد، اپنے خاندان میں، یا اپنے معاشرے میں جہاں بھی ممکن ہو، حق کا ساتھ دیں۔
- اپنے نفس پر قابو: صبر کا مطلب ہے اپنے غصے، اپنی خواہشات، اور اپنے نفس پر قابو پانا۔ کربلا کا سبق ہمیں سکھاتا ہے کہ نفسانی خواہشات پر حق و صداقت کو ترجیح دینی چاہیے۔
- دعاء کا اہتمام: دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔ مشکل وقت میں دعاء مانگنا ہمیں سکون اور طاقت عطا کرتا ہے۔
ایک روایتی پکوان: امامہ کی مٹھی
کربلا کی یاد میں، بہت سے گھرانوں میں کچھ خاص پکوان بنائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک روایتی اور سادہ سا پکوان ہے جسے "امامہ کی مٹھی" کہا جاتا ہے۔ یہ نام امامہ نامی ایک نیک دل خاتون کے نام سے منسوب ہے جو کربلا کے بعد زندہ بچ جانے والی خواتین میں شامل تھیں۔ کہتے ہیں کہ جب وہ مدینہ لوٹیں تو ان کے پاس کھانے کو کچھ خاص نہیں تھا، لیکن انہوں نے گندم کا آٹا اور کچھ کھجوریں ملا کر چھوٹی چھوٹی مٹھی نما گولیاں بنا کر انہیں ہلکا سا بھون کر اپنے بچوں کو کھلایا۔ یہ ان کی قربانی اور ان کے صبر کی یاد دلاتا ہے۔
اجزاء:
- 2 کپ گندم کا آٹا
- 1/2 کپ کھجوریں (بیج نکلی ہوئی اور باریک کٹی ہوئی)
- 1/4 کپ گھی یا تیل
- 1/4 چمچ الائچی پاؤڈر (اختیاری)
- 1/4 چمچ نمک
بنانے کا طریقہ:
- ایک بڑے پیالے میں گندم کا آٹا، کٹی ہوئی کھجوریں، الائچی پاؤڈر (اگر استعمال کر رہے ہیں) اور نمک ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔
- تھوڑا تھوڑا گھی یا تیل ڈالتے ہوئے آٹے کو گوندھنا شروع کریں۔ آٹا نہ بہت سخت ہو اور نہ ہی بہت نرم۔ بس ایسا ہو کہ اس کی چھوٹی چھوٹی مٹھی نما شکل بنائی جا سکے۔
- آٹے کو گوندھنے کے بعد، اس کے چھوٹے چھوٹے لڈو یا مٹھی نما شکل کے ٹکڑے بنا لیں۔
- ایک نان اسٹک پین یا توا گرم کریں، اس پر بہت کم گھی یا تیل ڈالیں۔
- بنائی ہوئی مٹھی نما ٹکڑیوں کو پین میں رکھیں اور ہلکی آنچ پر سنہری ہونے تک بھونیں۔ انہیں پلٹتے رہیں تاکہ وہ چاروں طرف سے یکساں بھون سکیں۔
- جب یہ سنہری اور خوشبودار ہو جائیں تو چولہے سے اتار لیں۔
یہ "امامہ کی مٹھی" بہت سادہ مگر مقوی ہوتی ہے۔ اسے چائے کے ساتھ یا ویسے ہی کھایا جا سکتا ہے۔ یہ ہمیں اس وقت کی یاد دلاتی ہے جب سادہ چیزوں میں بھی صبر اور قناعت شامل ہوتی تھی۔
اجزاء کی فہرست (دوبارہ):
- 2 کپ گندم کا آٹا
- 1/2 کپ کھجوریں (بیج نکلی ہوئی اور باریک کٹی ہوئی)
- 1/4 کپ گھی یا تیل
- 1/4 چمچ الائچی پاؤڈر (اختیاری)
- 1/4 چمچ نمک
مطلوبہ اوزار:
- بڑا مکسنگ باؤل
- چائے کا چمچ
- نان اسٹک پین یا توا
- چمچہ (پلٹنے کے لیے)
آخر میں
محرم الحرام ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کس مقصد کے لیے پیدا ہوئے ہیں اور ہمیں کس راستے پر چلنا ہے۔ کربلا کا میدان صرف میدان نہیں، بلکہ یہ حق و صداقت کا درس گاہ ہے۔ امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی قربانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ سچ کے لیے کھڑے ہونا، صبر و استقامت اختیار کرنا، اور اللہ کی رضا کے لیے ہر قربانی دینا ہی اصل کامیابی ہے۔ اس محرم میں، آئیے ہم سب عہد کریں کہ ہم ان عظیم اسباق کو اپنی زندگیوں میں سموئیں گے اور حق کے راستے پر چلتے رہیں گے۔
No comments: