میٹھے پکوان: کھجور کے شیرے سے چاول بنائیں، صحت بھی، ذائقہ بھی!
میٹھے پکوانوں کا ذکر ہو اور چاولوں کا نام نہ آئے، یہ تو ممکن ہی نہیں! خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں میٹھے چاولوں کی بے شمار اقسام پائی جاتی ہیں، اور ہر علاقے کی اپنی خاصیت ہے۔ آج ہم آپ کو کھجور کے شیرے سے بنے ہوئے چاولوں کی ایک ایسی منفرد ترکیب بتائیں گے جو نہ صرف لذیذ ہے بلکہ صحت کے لیے بھی بہترین ہے۔ کھجور، جسے عربی میں 'تمر' کہا جاتا ہے، ایک ایسا پھل ہے جو توانائی سے بھرپور ہوتا ہے اور اس میں بے شمار غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں۔ تو چلیے، شروع کرتے ہیں اس مزیدار اور صحت بخش ڈش کو بنانے کا طریقہ!
کھجور کے شیرے کی تاریخی اہمیت:
کہتے ہیں بہت سال پہلے، ایک بدوی قبیلے میں شدید قحط پڑا تھا۔ کھانے کو کچھ نہ تھا، اور لوگ بھوک سے مرنے لگے۔ قبیلے کے سردار کی ایک عقلمند بیٹی نے سوچا کہ کیوں نہ کھجوروں سے شیرہ نکالا جائے اور اسے چاولوں میں ملا کر پکایا جائے۔ اس نے اپنی ترکیب قبیلے والوں کو بتائی، اور سب نے مل کر کھجوروں سے شیرہ نکالا اور اسے چاولوں میں ڈال کر پکایا۔ یہ چاول نہ صرف پیٹ بھرنے کا ذریعہ بنے بلکہ قحط کے دوران لوگوں کو توانائی بھی فراہم کرتے تھے۔ اس دن سے، کھجور کے شیرے والے چاول اس قبیلے کی روایت بن گئے، اور اب یہ پوری دنیا میں اپنی لذت اور غذائیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔
کھجور کے شیرے والے چاول بنانے کا طریقہ
یہ ترکیب نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں استعمال ہونے والے اجزاء بھی آسانی سے دستیاب ہیں۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمیں کیا کیا چاہیے۔
اجزاء:
- چاول (باس متی): 2 کپ (اچھی طرح دھو کر آدھے گھنٹے کے لئے بھگو دیں)
- کھجور کا شیرہ: 1 کپ (گھریلو بنا ہوا یا بازار سے خریدا ہوا)
- گھی یا مکھن: 4 کھانے کے چمچ
- سبز الائچی: 4-5 عدد (کُٹی ہوئی)
- لونگ: 3-4 عدد
- دارچینی: 1 چھوٹا ٹکڑا
- بادام: 1/4 کپ (کٹے ہوئے)
- پستہ: 1/4 کپ (کٹے ہوئے)
- کشمش: 2 کھانے کے چمچ
- زعفران: چٹکی بھر (تھوڑے سے گرم دودھ میں بھگو دیں)
- پانی: 3 کپ
- چینی (اختیاری): اگر شیرے کی مٹھاس کم لگے تو 1/4 کپ
طریقہ کار:
- شیرہ تیار کریں (اگر بازار کا نہ ہو): اگر آپ گھر پر شیرہ بنا رہے ہیں تو کھجوروں کو دھو کر گٹھلیاں نکال لیں۔ انہیں تھوڑے سے پانی میں بھگو کر نرم کر لیں۔ پھر بلینڈر میں پیس کر چھان لیں۔
- چاول بھگوئیں: چاولوں کو اچھی طرح دھو کر کم از کم آدھے گھنٹے کے لئے بھگو دیں۔ اس سے چاول پکنے کے بعد کھلے کھلے بنیں گے۔
- گھی گرم کریں: ایک دیگچی میں گھی یا مکھن گرم کریں۔ جب گھی پگھل جائے تو اس میں الائچی، لونگ اور دارچینی ڈال کر ہلکا سا بھون لیں۔
- چاول شامل کریں: اب بھیگے ہوئے چاولوں کو پانی سے نکال کر دیگچی میں ڈال دیں۔ چاولوں کو ہلکے ہاتھوں سے بھونیں، تاکہ وہ ٹوٹ نہ جائیں۔ تقریباً 2-3 منٹ تک بھوننے کے بعد اس میں پانی ڈال دیں۔
- شیرہ شامل کریں: جب پانی میں ابال آنے لگے تو اس میں کھجور کا شیرہ ڈال دیں۔ اگر آپ کو کم میٹھا لگ رہا ہے تو اس وقت چینی بھی شامل کر سکتے ہیں۔
- پکنے دیں: آنچ ہلکی کر دیں اور دیگچی کو ڈھک دیں۔ چاولوں کو تقریباً 15-20 منٹ تک پکنے دیں، یا جب تک پانی خشک نہ ہو جائے۔
- دم پر رکھیں: جب پانی خشک ہو جائے تو چاولوں کو ہلکے ہاتھوں سے مکس کریں اور اس میں زعفران والا دودھ، بادام، پستہ اور کشمش ڈال دیں۔ دیگچی کو دوبارہ ڈھک دیں اور 5-10 منٹ کے لئے دم پر رکھ دیں۔
- سرو کریں: دم سے اتارنے کے بعد چاولوں کو ہلکے ہاتھوں سے مکس کریں اور گرم گرم سرو کریں۔ آپ اسے دہی یا کسی بھی میٹھی ڈش کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔
ضروری اوزار (Kitchen Utensils)
- دیگچی یا پتیلی (لگ بھگ 4-6 لیٹر کی گنجائش والی)
- چمچ (لکڑی کا یا سٹیل کا)
- چھلنی
- بلینڈر (اگر شیرہ خود بنانا ہے)
- ناپنے والا کپ
کھجور کے فوائد
کھجور ایک غذائیت سے بھرپور پھل ہے جس میں کئی صحت بخش خصوصیات پائی جاتی ہیں:
- توانائی کا ذریعہ: کھجور میں قدرتی شکر پائی جاتی ہے جو فوری توانائی فراہم کرتی ہے۔
- فائبر سے بھرپور: یہ قبض کشا ہے اور نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے۔
- آئرن سے بھرپور: خون کی کمی کو دور کرنے میں مددگار ہے۔
- پوٹاشیم سے بھرپور: بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔
- اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور: جسم کو نقصان دہ فری ریڈیکلز سے بچاتا ہے۔
صحت بخش تجاویز
- کھجور کے شیرے میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے، اس لیے چینی کا استعمال کم سے کم کریں۔
- گھی کی جگہ زیتون کا تیل بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- ڈرائی فروٹس اپنی پسند کے مطابق شامل کیے جا سکتے ہیں۔
- چاولوں کو زیادہ گلنے سے بچانے کے لیے انہیں دم پر ہلکی آنچ پر رکھیں۔
تو لیجیے تیار ہیں آپ کے مزیدار اور صحت بخش کھجور کے شیرے والے چاول! اس ترکیب کو ضرور آزمائیں اور اپنے پیاروں کے ساتھ اس مزیدار ڈش کا لطف اٹھائیں۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کو ضرور پسند آئے گا۔ اب آپ بھی قحط زدہ قبیلے کی طرح ایک صحت بخش غذا کے موجد کہلائیں گے۔ نوشِ جان!
No comments: